کسی مصیبت و ناگواری سے گھبرائیں نہیں۔۔؟

عسى ربنا ان يبدلنا خيرامنها (سورہ قلم 32)
بعید نہیں کہ ہمارا رب، ہمیں بدلے میں اُس سے بہتر باغ عطا فرمائے گا۔
جب کبھی تمہارے ہاتھ سے کوئی موقع نکل جائے،یا کوئی ملازمت چلی جائے، یا کوئی محبوب شئ ضائع و نقصان ہو جائے، یا کسی عزیز اور محبوب انسان کا ساتھ چھوٹ جائے،یا کسی قریبی دوست کی طرف سے دھوکہ کھا جاؤ اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ دوست نہیں بلکہ ایک خونخوار بھیڑیا نما انسان ہے، تو اس آیت سے اپنی حسرت کی آگ بجھانے کی کوشش کیا کرو۔
اللہ جو کچھ بھی تم کو دیکر واپس لیتا ہے، وہ کسی حکمت کے تحت لیتا ہے
اور جب کچھ تمہارے پاس چھوڑ دیتا ہے تو وہ اس کی رحمت کا مظہر ہوتا ہے۔تمہیں اللہ کی حکمت کا اندازہ ہو جائے تو اس کا شکر ادا کیا کرو، اور اگر اس کی حکمت سے واقف نہ ہو سکو تو صبر کیا کرو۔
اللہ رب العزت کے تمام فیصلوں میں خیر ہی خیر ہوتا ہےاگرچہ کوئی فیصلہ تمہارے اوپر کتنا ہی گراں گزرے۔

ایمان والوں کی قلبی کیفیت پر اجر کا بیان ۔؟

إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ (الملك : 12)
جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقینا ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے ۔
اللہ لوگوں کی نگاہوں سے دور اور محفوظ ہوتے ہیں لیکن ایمان والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
اس لئے وہ حرام کام پر قدرت رکھتے ہوئے اسے چھوڑ دیتے ہیں دو تمام فتنہ سامانیوں کے باوجود اپنی شہوانی خواہشات کو دبا دیتے ہیں اور تمام سہولتوں اور آسانیوں کے باوجود معصیت اور گناہ کے کام چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ شہوانی خواہشات کو اس لیے نہیں دباتے کہ انہیں یہ پسند نہیں ہیں یا حرام مال سے اس لیے نہیں دور رہتے ہیں کہ مال و دولت ان کو نا پسند ہیں بلکہ وہ یہ سب کچھ صرف اور صرف اللہ کے لیے چھوڑتے ہیں! وہ اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے اس لیے وہ اللہ کو حاضر و ناظر جانتے ہیں، اور اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں! اس رویے کو اللہ کی خشیت اور اللہ کا خوف اختیار کرنا کہتے ہیں ؟ یعنی کسی رسوائی کا خوف نہ ہوتے ہوئے بھی گناہ کے کاموں کو ترک کر دینا!
جب مؤمن بندے کی یہ حالت ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ ہے ۔

Scroll to Top