کفارۂ ظِہَار کیا ہے؟
ظہار جاہلیت کا ایک رواج تھا، جب کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہتا،تو میرے لیے میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہےایسا کہنا نہ صرف ناپسندیدہ ہے بلکہ اسلامی شریعت میں اس پر سخت کفارہ لازم کیا گیا ہے۔
ظِہَار کی حقیقت
یہ طلاق نہیں ہے، لیکن بیوی کو حرام قرار دینے کے الفاظ ہیں۔
جب کوئی مرد اپنی بیوی کو ماں جیسا قرار دیتا ہے، تو وہ اس وقت تک اس سے ازدواجی تعلق قائم نہیں کر سکتا جب تک کفارہ ادا نہ کرے۔
کفارۂ ظِہَار (سورہ المجادلہ: آیت 3-4)
اگر کوئی مرد اپنی بیوی سے ظہار کرے، تو کفارہ کی ترتیب درج ذیل ہے:
نمبر ایک :ایک غلام آزاد کرناآج کے دور میں یہ ممکن نہیں ہے
نمبر دو :دو مہینے کے مسلسل روزے رکھنابغیر ناغہ کیے
اگر درمیان میں بغیر عذر کے ناغہ ہوا تو پھر سے روزے شروع کرنا ہوگا
نمبر تین :ساٹھ (60) مسکینوں کو کھانا کھلانا،ہر مسکین کو دو وقت کا کھانایاصدقۂ فطر کے برابر گندم/آٹا یا اس کی قیمت دینک
اہم ہدایات:
کفارہ ادا کیے بغیر بیوی سے تعلق قائم کرنا حرام ہے
ظہار سے نکاح ختم نہیں ہوتا، مگر تعلقات حرام ہو جاتے ہیں
یہ الفاظ زبان سے نکالنے سے گناہ لازم آتاہے، لہٰذا توبہ بھی کری
قرآن کیا کہتا ہے؟
> “پھر جو اس بات سے رجوع کرے جو اس نے کہا، تو بیوی کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے… پھر اگر نہ پائے تو دو ماہ کے پے در پے روزے رکھے… اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے۔”
— سورہ المجادلہ: 3-4
📌 خلاصہ:
مرحلہ کفارہ:
پہلا غلام آزاد کرنا (ممکن نہیں)
دوسرا دو مہینے مسلسل روزے رکھنا
تیسرا 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا
ماشاءاللہ
Good