الحمدُ للّٰہِ وحدہٗ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!محترم صدرِ محترم، اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو!آج ہم جس آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں، یہ کوئی خیرات میں ملی ہوئی نعمت نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے ان اننگنت اسلاف اور بزرگوں کے لہو کی قیمت ہے، جنہوں نے دیس کی آزادی کے لیے اپنے سینے پر گولیاں کھائیں اور ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندوں کو چوم لیا۔ جب کبھی بھی تاریخ کے پنوں کو پلٹا جاتا ہے، تو اس ملک کی آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں کا کردار اور ان کی بے مثال قربانیاں سنہرے حروف میں نظر آتی ہیں۔سامعین باتمکین!انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کا سب سے پہلا بگُل بجانے والے میسور کے شیر ٹیپو سلطان تھے، جنہوں نے میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش فرمایا اور یہ پیغام دیا کہ “گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔”اس کے بعد، سن 1857 کی جنگِ آزادی میں جب پورا ملک انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، تو مفتی صدرالدین آزردہ، علامہ فضلِ حق خیر آبادی اور بخت خان جیسے علما نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ ان جانباز علما کو انڈمان اور نکوبار کی کالی کوٹھری کی ہولناک سزائیں سہنی پڑیں، لیکن ان کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہیں آئی۔اگر ہم آگے بڑھیں، تو ریشمی رومال تحریک کے بانی مولانا محمود حسن اور مولانا عبیداللہ سندھی کی قربانیوں کو کون بھلا سکتا ہے؟ جنہوں نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر انگریزوں کے خلاف جال بُنا۔ حسرت موہانی وہ پہلے شحص تھے جنہوں نے انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سب سے پہلے مکمل آزادی کا نعرہ دیا تھا۔اور جب بات آتی ہے انقلاب اور شہادت کی، تو اشفاق اللہ خاں کا نام آتے ہی ہر ہندوستانی کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ رام پرساد بسمل کے ساتھ پھانسی کے پھندے پر جھولتے ہوئے اشفاق کا یہ قول اور اندازِ فکر ہمیشہ زندہ رہے گا کہ وطن کی محبت ان کے ایمان کا حصہ تھی۔ساتھیو،مولانا ابوالکلام آزاد، خان عبد الغفار خان ، اور بیگم حضرت محل جیسی شخصیتوں نے اس لڑائی کو فکری اور زمینی دونوں سطحوں پر مضبوط کیا۔ ان تمام بزرگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کا مذہب کیا ہے، بلکہ انہوں نے صرف ایک ہی مقصد سامنے رکھا—وطن کی آزادی ۔آج کا دن صرف ان بہادر سپوتوں کو یاد کرنے کا نہیں ہے، بلکہ ان کے بتائے ہوئے اتحاد، قربانی اور حب الوطنی کے راستے پر چلنے کا ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر یہ عہد لیں کہ ہم اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب، باہمی بھائی چارے اور اس کی آزادی کی حفاظت اپنی آخری سانس تک کریں گے۔انہی چند کلمات کے ساتھ، میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ہندوستان زندہ باد