قر آن کی نصیحت

خود کو پہچاننا – اصل کامیابی کی کنجی
قرآن میں فرمایا گیا ہے:
“بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے” (القیامہ: 14)
انسان کی اصل پہچان دوسروں کی تعریف سے نہیں بلکہ اپنی حقیقت کو جاننے سے ہوتی ہے۔ اگر کوئی انسان ہر وقت دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کی کوشش کرتا رہے تو وہ صرف دکھاوا کر رہا ہے۔ یہ دکھاوا وقتی ہوتا ہے اور حقیقت کو چھپا نہیں سکتا۔ اصل ترقی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان خود اپنی خوبیوں اور خامیوں کو پہچان کر خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
آج کے دور میں لوگ دوسروں کی نظروں میں اچھا بننے کے لیے بڑی کوشش کرتے ہیں، لیکن اپنی ذات کی اصلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی کا مقصد سمجھنا ہوگا۔ اگر ہم اپنی اصل حقیقت جان لیں تو نہ صرف اللہ کی معرفت حاصل ہوگی بلکہ ہم اپنے آپ کو بھی بہتر بنا سکیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں اپنے آپ کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے بہت خوبیاں رکھی ہیں، لیکن ان خوبیوں کو اُجاگر کرنے کے لیے انسان کو خود پر محنت کرنی پڑتی ہے۔
بعض لوگ دوسروں کی برائی کرکے اپنی اچھائی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ طریقہ درست نہیں۔ حقیقی نیکی یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں اور دوسروں کے لیے اچھائی کا ذریعہ بنیں۔
آخر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اگر ہم خود کو پہچان لیں، اپنی کمزوریوں کو جان کر انہیں دور کریں، اور اپنی خوبیوں کو نکھاریں تو ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

1 thought on “قر آن کی نصیحت”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top