الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا (الكيف : 46)
یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک زینت ہے۔)
مال و دولت کی فروانی زندگی کو بہت آسان بنادیتی ہے اور اولا د ساتھ ہو تو یہ دنیا بہت خوب صورت بن جاتی ہے لیکن قرآن مجید کی اس آیت پر ذرا گہرائی کے ساتھ غور کر یں، تو قرآن مجید نے ان کے لیے زینت کی تعبیر استعمال کی ہے، قیمت کی نہیں! انسان کی پہچان اس کے علم سے ہوتی ہے، اس کے مال و دولت سے نہیں اس کے دل سے ہوتی ہے، اس کی جیب سے نہیں
اس کی شفقت و محبت سے ہوتی ہے، اس کی حکومت وسلطانی سے نہیں اس کی رقت و نرمی سے ہوتی ہے، اس کی شدت اور سختی سے نہیں ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے قارون کی دولت پر رشک کیا اور جب وہ اور اس کا گھر زمیں بوس ہو گیا تو لوگوں کو اس کی حیثیت کا پتہ چلا اس بات کو وقت رہتے ہر کسی کو سمجھ جانا چاہیے!اور مال واولاد کے ذریعہ اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا چاہیے ۔