علم کی اہمیت پر مختصر تقریر

الحمدُ للّٰہِ وحدہٗ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ!
معزز اساتذہ کرام، محترم سامعین، اور میری عزیز سہیلیو!
آج میں جس نہایت اہم موضوع پر گفتگو کرنے جا رہی ہوں وہ ہے “علم کی اہمیت”۔ علم وہ روشنی ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی اندھیروں میں ڈوبی رہتی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے علم کو اختیار کیا وہ اُبھری، اور جس نے علم کو چھوڑا وہ پستیوں میں گِر گئی۔
سب سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” یعنی پڑھو سے شروع ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علم انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، مگر اس شرف کی بنیاد بھی علم ہی پر رکھی — جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آدمؑ کو علم عطا کرکے فرشتوں پر فضیلت دی۔
محترم حضرات!
علم انسان کے کردار کو نکھارتا ہے۔ علم انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ علم وہ نعمت ہے جو انسان کے دل و دماغ کو روشن کر دیتی ہے، اس کی سوچ کو وسیع کرتی ہے، اس کے اخلاق کو سنوارتی ہے اور اسے زندگی کی راہوں میں باوقار بناتی ہے۔ ایک جاہل شخص خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی مثال ایک ایسے اندھے مسافر کی سی ہے جو راستہ تو چل رہا ہو، مگر منزل کا علم نہ ہو۔ لیکن ایک باعلم انسان کمزور ہونے کے باوجود پہاڑوں کو ہلا سکتا ہے، قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
علم صرف نصابی کتابوں کا نام نہیں، بلکہ علم دراصل زندگی کو سمجھنے کا نام ہے۔ اچھی بات کو جان کر اپنانا ہی علم ہے، برائی کو پہچان کر چھوڑ دینا ہی علم ہے۔ جب انسان علم کے ذریعے اپنا مقصد تلاش کرتا ہے، تو اس کی پوری زندگی سنور جاتی ہے۔
پیارے ساتھیو!
علم حاصل کرنے کا سب سے بہترین اور محفوظ مقام ہمارا اسکول ہے۔
اسکول وہ جگہ ہے جہاں ہم صرف کتابوں سے نہیں بلکہ اساتذہ کے اخلاق، ان کی تربیت اور ان کی رہنمائی سے بھی سیکھتے ہیں۔
اسکول ہمیں اچھی عادتیں سکھاتا ہے۔
اسکول میں ہم دوستی، اخلاق، نظم اور احترام سیکھتے ہیں۔
استاد ہمارے لیے ایسے چراغ ہوتے ہیں جو ہمارے راستے روشن کرتے ہیں۔
اسکول ہماری چھپی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں نکھارتا ہے۔
اگر اسکول نہ ہو تو ہم نہ صحیح طریقے سے پڑھ سکتے ہیں، نہ لکھ سکتے ہیں، نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ دنیا میں جتنی ترقی آج ہم دیکھ رہے ہیں—سائنس، ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، میڈیکل—یہ سب اساتذہ، و انتطامیہ کی محنتوں کا ثمرہ ہے جنہوں نے اسکول قائم کیا اور تعلیم کو اہمیت دی۔
اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اسکول کو اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھیں، وقت پر آئیں، اساتذہ کا احترام کریں اور محنت سے پڑھائی کریں۔ یاد رکھیں:
“اچھا طالب علم وہی ہے جو اپنے اسکول کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہے۔”
آخر میں میں اس بات اپنی بات ختم کرنا چاہوں گی:
“علم چراغ ہے، جہالت اندھیرا۔ چراغ جلاؤ گے تو منزل ملے گی، اندھیرے میں چلنے والے بھٹک جاتے ہیں۔”
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور ہمیں اچھے طالب علموں میں شامل فرمائے۔آمین
شکریہ!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top