ایمان والوں کی قلبی کیفیت پر اجر کا بیان ۔؟
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ (الملك : 12)
جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقینا ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے ۔
اللہ لوگوں کی نگاہوں سے دور اور محفوظ ہوتے ہیں لیکن ایمان والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
اس لئے وہ حرام کام پر قدرت رکھتے ہوئے اسے چھوڑ دیتے ہیں دو تمام فتنہ سامانیوں کے باوجود اپنی شہوانی خواہشات کو دبا دیتے ہیں اور تمام سہولتوں اور آسانیوں کے باوجود معصیت اور گناہ کے کام چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ شہوانی خواہشات کو اس لیے نہیں دباتے کہ انہیں یہ پسند نہیں ہیں یا حرام مال سے اس لیے نہیں دور رہتے ہیں کہ مال و دولت ان کو نا پسند ہیں بلکہ وہ یہ سب کچھ صرف اور صرف اللہ کے لیے چھوڑتے ہیں! وہ اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے اس لیے وہ اللہ کو حاضر و ناظر جانتے ہیں، اور اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں! اس رویے کو اللہ کی خشیت اور اللہ کا خوف اختیار کرنا کہتے ہیں ؟ یعنی کسی رسوائی کا خوف نہ ہوتے ہوئے بھی گناہ کے کاموں کو ترک کر دینا!
جب مؤمن بندے کی یہ حالت ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ ہے ۔